’میرا اللہ ان سے بدلا لے گا‘مشعال کی والدہ

‘میں سوچتی تھی کہ میرا بیٹا بڑا ہو کر بڑا آدمی بنے گا۔ میرا سہارا بنے گا لیکن اسے اتنی بےدردی سے قتل کر دیا گیا۔ کسی نے مشعال کو تحفظ فراہم نہیں کیا۔ ان لوگوں کو کیا سزا ملے گی جنھوں نے میرے بیٹے پر جھوٹا الزام لگایا؟’

یہ کہنا ہے مشعال خان کی والدہ سیدہ گلزاز بیگم کا جن سے ملنے میں صوابی کے قریب واقع گاؤں زیدہ گئی۔ جب مشعال نے ایف اے میں ٹاپ کیا تو گاؤں کے چوک پر لگے بل بورڈز کو اس کی تصاویر سے سجایا گیا لیکن انھیں بورڈز پر اب اس کے چہلم کی تصاویر ہیں۔

گھر میں داخل ہوتے ہی ایک چارپائی پر 23 سالہ مشعال کا بچا کچا سامان پڑا تھا۔ جو پولیس نے چند دن پہلے ہی لوٹایا تھا۔ مشعال کے کپڑے، چند کتابیں اور دو سو ستر روپے لیکن کیمرہ ، لیپ ٹاپ، فون جیسی قیمتی اشیا ہوسٹل سے چوری ہو گئی تھیں۔

مشعال کی والدہ وقفے وقفے سے اس کے کپڑوں اور کتابوں کو چومتیں اور کہتیں ‘خدا نے مجھے ہنرمند بیٹا دیا لیکن ان ظالموں نے مجھ سے میرا بیٹا چھین لیا۔ میرا اللہ ان سے بدلا لے گا۔’

خیال رہے حال ہی میں مشعال خان کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مشعال خان پرتوہین مذہب کا جھوٹا الزام لگایا گیا ہے اور قتل مبینہ طور پر سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا گیا جس میں یونیورسٹی کے اہلکار اور پختون سٹوڈنٹ فیڈریشن کے صدر ملوث ہیں۔

مشعال خان طلبا کے مسائل اجاگر کرنے اور یونیورسٹی میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی کےخلاف آواز اٹھانے کے لیے جانے جاتے تھے۔

13 اپریل کو یونیورسٹی میں شور مچا کہ مشعال خان اور ان کے دو دوستوں نے توہین مذہب کی ہے جس کے بعد طلبا نے مشعال کو مار مار کر ہلاک کر دیا۔ مشعال کو تین گولیاں بھی ماری گئیں۔

مشعال کے والد اقبال خان کہتے ہیں ‘مشعال کی لاش خون سے لت پت تھی۔ اس کے سر پر پھتر اور گملے مارے گئے۔ اس کی ہاتھوں پر چھریاں ماری گئیں۔ ہم نے جلدی جلدی روئی کے ساتھ اس کے بدن کو جنازے سے پہلے صاف کیا تاکہ اس کی ماں یہ نہ دیکھ سکے کیونکہ اس سے برداشت نہیں ہوتا۔‘

پاکستانتصویر کے کاپی رائٹAFP

’غضب تو یہ ہے کہ میرے اتنے نیک بیٹے پر توہین مذہب کا الزام لگایا گیا اسے برہنہ کر کہ مارا گیا۔’

اقبال خان جے آئی ٹی کی رپورٹ سے مطمئن ہیں۔ ‘میں چاہتا ہوں جو لوگ ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے انہیں پکڑا جائے۔ پولیس نے اداکاروں کو تو پکڑ لیا مگر جنھوں نے یہ ڈرامہ تخلیق کیا وہ اب بھی کھلے عام گھوم رہے ہیں۔’

اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ آخر ان لوگوں کے خلاف کیا کارروائی کی جائے جو ذاتی مفاد کے لیے توہین مذہب کے قانون کا غلط استعمال کرتے ہیں؟

اس سلسلے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر کہتے ہیں ‘رپورٹ کے بعد یہ واضح ہے کہ مشعال خان توہین مذہب کا مرتکب نہیں۔ توہین مذہب کے نام پر اس کا خون نا خق ہوا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کی شہادت ضائغ نہیں جائے گی اور یہ موقع ہے کہ حکومت توہین مذہب کے غلط استعمال کے خلاف اقدامات کرے۔’

ان کا مزید کہنا تھا ‘جب یہ ثابت ہو جائے کہ توہین مذہب کے قانون کا غلط استعمال ہوا تو اس شحض کو بھی وہی سزا ملنی چاہیے جو توہین مذہب کے مرتکب کو ملتی ہے۔’

توہین مذہب کے قانون کے غلط استعمال کی مذمت باتوں کی حد تک تو تمام علما اور قانون ساز سب کرتے ہیں مگر اکثریت معاشرتی رویوں میں تبدیلی کے لیے قانون سازی تو دور کی بات بلکہ بات کرنے سے بھی کتراتی ہے۔

 

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s