وزیراعظم ہاؤس کا رویہ ‘سِسلی کے مافیا’ کی حقیقی تصویر:متحدہ لندن

لندن: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) لندن نے وزیراعظم ہاؤس کے عملے کے رویئے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے593293df17112 اسے ‘سِسلین مافیا’ کی حقیقی تصویر قرار دیا۔

ایم کیو ایم کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے ایک بیان میں پارٹی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ متحدہ کے بانی الطاف حسین نے جمعرات (یکم جون) کی رات 8 بجکر 35 منٹ پر وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم نواز شریف کو ٹیلی فون کیا۔

بیان کے مطابق وزیراعظم ہاؤس کے آپریٹر نے فون سنا اور اپنا نام ظاہر کرنے سے گریز کیا، جب الطاف حسین نے آپریٹر سے کہا کہ ان کی بات وزیراعظم سے کروایں، تو آپریٹر نے انھیں انتظار کرنے کو کہا لیکن وہ واپس فون پر نہیں آیا اور کال منقطع ہوگئی۔

کچھ دیر بعد الطاف حسین نے دوبارہ ٹیلی فون ملایا، اس مرتبہ کسی اور آپریٹر نے فون اٹھایا، انھوں نے آپریٹر سے وزیراعظم سے بات کروانے کو کہا ‘کیونکہ یہ بہت ضروریا’۔

بیان کے مطابق آپریٹر نے جواب دیا کہ وزیراعظم اس وقت موجود نہیں ہیں، جس پر الطاف حسین نے ان سے کہا کہ وہ ان کی بات ملٹری سیکریٹری (ایم ایس) یا کسی اور سے کروا دیں، تاکہ ان کا نقطہ نظر اسی طرح وزیراعظم تک پہنچ سکے۔

جس پر آپریٹر نے وہی طریقہ اپنایا اور الطاف حسین کو ہولڈ کرنے کا کہہ کر غائب ہوگیا۔

ایم کیو ایم ترجمان نے مزید کہا کہ بانی الطاف حسین نے تیسری مرتبہ 8 بجکر 40 منٹ پر نمبر ملایا، جس پر کسی تیسرے آپریٹر نے فون اٹھایا اور نام بتانے سے گریز کیا۔

بیان کے مطابق الطاف حسین نے تیسرے ٹیلی فون آپریٹر سے کہا کہ وہ وزیراعظم سے سپریم کورٹ کے جج کی جانب سے حکومت کو سِسلین مافیا کا نمائندہ قرار دینے کے معاملے پر بات کرنا چاہتے ہیں، لیکن ‘وزیراعظم ہاؤس کے عملے کا رویہ مکمل طور پر قابل مذمت ہے’۔

ایم کیو ایم ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ الطاف حسین نے کہا کہ ‘اس معاملے کا فیصلہ جلد ہی اللہ رب العزت کی عدالت میں ہوگا اور نتائج بھی جلد ہی سامنے آجائیں گے’۔

ترجمان ایم کیو ایم کا مزید کہنا تھا کہ ‘وزیراعظم ہاؤس کے عملے کا رویہ افسوسناک اور مضبوط ترین شکل میں قابل مذمت ہے جبکہ افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس کے عملے نے حقیقی طور پر سیلسین مافیا کی ایک تصویر پیش کی، جیسا کہ سپریم کورٹ کے ایک جج نے چند دن قبل ریمارکس دیئے تھے’۔

ایم کیو ایم ترجمان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب 2 روز قبل مسلم لیگ (ن) کے سابق سینیٹر نہال ہاشمی کی ایک دھمکی آمیز تقریر پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے ایک جج نے حکومتی رویے کو ‘سیلسین مافیا’ کے مترادف قرار دیا تھا۔

یاد رہے کہ دو روز قبل نہال ہاشمی کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی، جس میں اپنی جذباتی تقریر کے دوران وہ دھمکی دیتے نظر آئے تھے کہ ‘پاکستان کے منتخب وزیراعظم سے حساب مانگنے والوں کے لیے زمین تنگ کردی جائے گی۔‘

نہال ہاشمی نے جوش خطابت میں کسی کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ ’حساب لینے والے کل ریٹائر ہوجائیں گے اور ہم ان کا یوم حساب بنادیں گے۔‘

بعد ازاں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے نہال ہاشمی کی دھمکی آمیز تقریر کا نوٹس لیتے ہوئے معاملہ پاناما کیس عملدرآمد بینچ کے پاس بھیجنے کی ہدایت کی تھی۔

بعدازاں مذکورہ کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے نہال ہاشمی کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ چلانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو لیگی سینیٹر کی تقریر سے متعلق مواد اکٹھا کرنے کی ہدایت کی تھی۔

سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘جو بھی ہماری یا عدلیہ کی تضحیک کرے گا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے کی، آپ کی حکومت ہمارے لئے مسائل پیدا کر رہی ہے’۔

دوسری جانب جسٹس شیخ عظمت سعید کا کہنا تھا کہ ‘بزدل نہیں مافیا اور دہشت گرد ایسا کرتے ہیں، مبارک ہو مسٹر اٹارنی جنرل! آپ کی حکومت نے سِسلین مافیا کو جوائن کرلیا ہے

یاد رہے کہ سینیٹر نہال ہاشمی کی غیر ذمہ دارانہ اور دھمکی آمیز تقریر کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے نہال ہاشمی کی بنیادی پارٹی رکنیت بھی معطل کردی تھی۔

جبکہ وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اونگزیب نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ نہال ہاشمی سے سینیٹ کی رکنیت سے بھی استعفیٰ طلب کرلیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے بانی قائد الطاف حسین کو ان کی 22 اگست 2016 کی تقریر کے بعد پارٹی سے نکال دیا گیا تھا اور فاروق ستار نے ایم کیو ایم کی پاکستان میں قیادت شروع کر دی تھی تاہم لندن میں موجود ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے پاکستان کی قیادت کے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا اور الطاف حسین کو ہی اصل پارٹی رہنما قرار دیا تاہم بلدیاتی نمائندوں، ارکان صوبائی وقومی اسمبلی اور سینیٹرز سمیت اکثریت ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔

ایک مبینہ آڈیو پیغام میں ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین نے ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ استعفے دیں، کیوں کہ انھوں نے ان کے نام پر نشستیں حاصل کی تھیں، تاہم کسی بھی رکن نے اس مطالبے کو اہمیت نہیں دی تھی۔

بعد ازاں الطاف حسین نے اپنے ویڈیو پیغام میں ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار پر دھوکا دہی کا الزام عائد کرتے ہوئے اپنی پارٹی سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں کو خبردار کیا تھا کہ اگر انہوں نے ان کی کال پر اسمبلیوں سے استعفے نہیں دیئے تو ووٹرز اپنے حلقوں میں ان استعفوں کو یقینی بنائیں گے، لیکن ان کے اس اعلان کو بھی کسی نے اہمیت نہیں دی۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s