لندن میں ’دہشت گردی‘ کے دو واقعات، متعدد زخمی

_96336607_e06ac117-3d3b-4b6f-a84e-b1bea0a5e716.jpg

برطانوی ٹرانسپورٹ پولیس کا کہنا ہے کہ لندن بریج کے علاقے میں سنیچر کی شب دہشت گردی کے دو مختلف واقعات پیش آئے ہیں۔ ان واقعات میں ایک سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ متعدد افراد زخمی ہیں۔ ان واقعات میں ممکنہ طور ایک وین نے راہگیروں کو کچل دیا جبکہ لوگوں پر چاقو کے وار کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔

پولیس کی جانب سے دو واقعات کو دہشت گردی قرار دیے جانے سے کچھ ہی دیر قبل وزیراعظم ٹریزامے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ لندن میں پیش آنے والے واقعات کو ممکنہ دہشت گردی کے واقعات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اتوار کو کوبرا کمیٹی کی میٹنگ ہوگی۔

  • پولیس حکام نے ایک سے زیادہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ان واقعات کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
  • اطلاعات کے مطابق ایک سے زیادہ مقامات پر لوگوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
  • شب ساڑھے دس بجے پر ایک سفید وین نے راہگیروں کو ٹکر ماری۔
  • دوسرے واقعے میں مقبول ترین فوڈ مارکیٹ، برو مارکیٹ میں ایک شخص کو چاقو کے ہمراہ دیکھا گیا۔ پولیس کی جانب سے وہاں گولیاں بھی چلائی گئیں۔
  • سکاٹ لینڈ یارڈ کے مطابق تیسرا واقعہ واکس ہال میں پیش آیا تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اسے دہشت گردی کے دو دیگر واقعات سے نہ جوڑا جائے۔
  • پولیس تین مشتبہ افراد کو تلاش کر رہی ہے۔
  • لندن بریج اور ریل سروس کو بند کر دیا گیا ہے۔

وزیراعظم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پولیس اور سکیورٹی حکام کی جانب سے ملنے والی معلومات کی بنا پر میں یہ تصدیق کر سکتی ہوں کہ لندن میں پیش آنے والے اندھوناک واقعات کو ممکنہ طور پر دہشت گردی کے اقدامات کے طور پر لیا جا رہا ہے۔‘

ابتدائی واقعے کے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ایک سفید وین کے راہ گیروں کو کچلنے کے بعد وہاں مسلح پولیس افسران کو دیکھا گیا ہے۔

میٹرو پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ پولیس کو تین مشتبہ افراد کی تلاش ہے۔

لندن حملہتصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
  • میں نے کیا دیکھا

بی بی سی کی نامہ نگار ہولی جونز جو اس واقعے کے وقت لندن بریج پر ہی موجود تھی کا کہنا ہے کہ ’ایک وین جسے ایک مرد چلا رہا تھا شاید 50 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی تھی۔‘

انھوں نے بتایا کہ وین نے راہگیروں کو ٹکر ماری اور اس کے بعد زخمی ہونے والے پانچ افراد کو طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ وین مرکزی لندن سے آرہی تھی اور اس کا رخ دریا کے جنوب کی طرف تھا۔

ہولی جونز کے مطابق زخمیوں میں سے چار شدید زخمی تھے۔

بعدازاں نامہ نگار نے یہ بھی اطلاع دی کہ انھوں نے دیکھا کہ جائے وقوعہ پر پولیس ایک شخص کو گرفتار کر رہی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ایک فرانسیسی خاتون بھی زخمیوں میں شامل ہیں جن کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتی کہ ان کے ساتھ موجود دو اور لوگ کہاں گئے۔

لندن حملہتصویر کے کاپی رائٹ PA

مارکیٹ پورٹر پپ میں موجود ایک سکیورٹی گارڈ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انھوں نے دیکھا کہ بارا مارکیٹ میں تین افراد کو دیکھا جن میں سے ایک کے ہاتھ میں بڑا سا چاقو تھا اور وہ لوگوں کو مار رہے تھے۔ انھوں نے بتایا حملے کا نشانہ بننے والوں میں ایک نوجوان لڑی بھی تھی۔

نتالی اور بین جو کہ بارا مارکیٹ سے گزر رہے تھے بھی عینی شاہدین میں شامل ہیں۔ بی بی سی فور سے گفتگو میں بین نے بتایا کہ ’ میں نے ایک شخص کو سرخ لباس میں دیکھا جس کے پاس بڑا سال بلیڈ تھا، مجھے اس کی لمبائی معلوم نہیں شاید 10 انچ ہوگا۔ وہ ایک شخص پر وار کر رہا تھا۔ اس نے اس پر تین مرتبہ وار کیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے گولیاں چلنے کی بھی آواز سنی۔

ایلکس شیلم اپنے دوستوں کے ہمراہ مڈلارک پب میں موجود تھے جو کہ لندن بریج کے نیچے موجود ہے۔ انھوں نے بتایا کہ دس بجے کے قریب ایک خاتون پب میں داخل ہوئیں اور مدد کی درخواست کی۔

انھوں نے بتایا کہ خاتون زخمی تھیں اور ان کی گردن سے بہت زیادہ خون بہہ رہا تھا۔ ’بظاہر ایسا لگتا تھا کہ ان کا گلا کاٹا گیا ہے۔‘

پب کے باہر ایمرجینسی سروس کے اہلکار لوگوں کو طبی امداد فراہم کر رہے تھے۔

’ہم سے کہا گیا تھا کہ ہم مسلح پولیس کے ساتھ چلیں۔‘

لندن کی ٹرانسپورٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ لندن بریج کو دونوں اطراف سے بند کر دیا گیا ہے کیونکہ یہ ’بڑا واقعہ ہے۔‘ بسوں کو بھی متبادل روٹس استعمال کرنے کو کہا گیا ہے۔

لندنتصویر کے کاپی رائٹ Twitter

لندن کی ایمبسولینس سروس نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر پیغام میں کہا ہے ’متعدد ادارے لندن بریج پر پیش آنے والے واقعے کو دیکھ رہے ہیں، برائے مہربانی اس علاقے میں جانے سے گریز کریں۔‘

ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ امریکہ برطانیہ کی ہر قسم کی مدد کرنے کے لیے اس کے ساتھ ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s