یورپی امداد جمہوریت، انسانی حقوق سے مشروط کرنے کی جرمن تجویز

جرمنی نے یورپی یونین کو تجویز پیش کر دی ہے کہ اس بلاک کی طرف سے اربوں یورو سالانہ کی مالی امداد کو ان ترقیاتی رقوم کے وصول کنندہ ممالک کی طرف سے جمہوری ضابطوں اور انسانی حقوق کے احترام سے مشروط کر دیا جائے۔

Flaggen der EU (picture alliance/dpa/J. Kalaene)

جرمن دارالحکومت برلن سے بدھ اکتیس مئی کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق جرمنی نے یہ تجویز خاص طور پر ان ممالک میں صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے پیش کی ہے، جو برسلز سے ملنے والی ترقیاتی امداد تو وصول کرتے ہیں لیکن جہاں یورپی یونین کے جمہوری، سماجی اور اخلاقی معیارات کے احترام کا فقدان نظر آتا ہے۔

جرمنی کی اس تجویز کا تعلق یورپی یونین کے ان رکن ملکوں سے ہے، جو یونین سے ہر سال بہت بڑی رقوم اس ترقیاتی امداد کے طور پر حاصل کرتی ہیں، جو یونین کے cohesion فنڈ سے مہیا کی جاتی ہے۔

وفاقی جرمن وزارت اقتصادیات کی ترجمان تانیا آلیمانی نے بدھ کے روز تصدیق کی کہ جرمن حکومت نے ایک ایسی تجویز کو حتمی شکل دے دی ہے، جس کے تحت یورپی یونین کی طرف سے کسی بھی رکن ملک کو ترقیاتی رقوم مہیا کرتے ہوئے لازمی شرط کے طور پر یہ بھی پرکھا جائے کہ اس ریاست میں قانون کی حکمرانی اور جمہوری اصولوں کی بالا دستی کی صورت حال کیا ہے۔

یورپی یونین کا یہ فنڈ اس بلاک کی مقابلتاﹰ غریب رکن ریاستوں کے لیے قائم کیا گیا تھا تاکہ انہیں بھی یونین کے عمومی سماجی اور ترقیاتی معیارات کے حوالے سے دیگر رکن ریاستوں کی سطح تک لایا جا سکے۔

Justitia mit Pendelwaage (picture-alliance/Ulrich Baumgarten)عدلیہ اور میڈیا کی آزادی یورپی یونین کی بنیادی اقدار کے لازمی حصے ہیں

اس مقصد کے لیے یورپی یونین نے اپنے 2014ء سے لے کر 2020ء تک کے مجموعی بجٹ میں 63.4 بلین یورو یا 71.1 بلین امریکی ڈالر کے برابر وسائل مختص کر رکھے ہیں۔

جرمنی نے یہ تجویز کیوں پیش کی، اس بارے میں وفاقی وزارت اقتصادیات کی ترجمان نے صحافیوں کو بتایا، ’’یورپی یونین کے قابل اعتماد ہونے کی اساس ہی یہ ہے کہ اس بلاک کی بنیادی اقدار کی پاسداری کی جائے۔‘‘

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق برلن حکومت کی اس تجویز کا واضح پس منظر یہ ہے کہ یورپی کمیشن کی طرف سے کافی عرصے سے اس بلاک کی رکن ریاستوں کے طور پر پولینڈ اور ہنگری کی حکومتوں پر کھل کر تنقید کی جاتی رہی ہے۔

اس تنقید کی وجہ ان ملکوں میں ایسے قوانین کی منظوری اور دیگر حکومتی اقدامات بنے تھے، جن کے نتیجے میں وہاں میڈیا کی آزادی اور عدلیہ کے علاوہ دیگر ریاستی اداروں کی خود مختاری اور غیر جانبداری متاثر ہوئیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s