لوڈ شیڈنگ سے بیزار شہریوں کا شدیداحتجاج

electricity-protest1-640x480.jpg

کراچی میں رمضان کی ایک اور سحری کے دوران کے الیکٹرک کی جانب سے لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج کیا گیا اور ٹائر کو نذرآتش کردیا گیا۔

لوڈشیڈنگ کا مسئلہ چار سال قبل حکومت سنبھالنے والے وزیراعظم نواز شریف کے لیے تاحال چیلنج بنا ہوا جبکہ انھوں نے 2013 کے عام انتخابات میں لوڈشیڈنگ کو ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

کراچی میں شہریوں نے منگل کو بھی سحری کے دوران لوڈشیڈنگ کے خلاف شدید احتجاج کیا۔

پولیس افسر خادم علی کا کہنا تھا کہ چند مظاہرین نے کے-الیکٹرک کے ایک دفتر پر حملہ کرنے اور نذرآتش کرنے کی کوشش کی۔

دوسری جانب کے-الیکٹرک نے ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ شدید گرمی کے باعث ایک ٹرانسمیشن لائن ٹرپ کرگئی تھی جبکہ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ مزید دو سے تین ہفتے جاری رہے گا۔

اس وقت کراچی کے بعض علاقوں میں 8 سے 10 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔

وزیراعظم ہاوس کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق وزیراعظم نوازشریف نے لوڈشیڈنگ پر کابینہ کے ایک ایمرجنسی اجلاس کی صدارت کی۔

اعلامیے کے مطابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اجلاس میں رمضان کے دوران بجلی کی لوڈشیڈنگ کو کم کرنے کے لیے ‘فوری اقدامات’ پر توجہ دی گئی۔

خیال رہے کہ پشاور میں لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کے دوران گزشتہ روز دوافراد ہلاک ہوئے تھے، اطلاعات کے مطابق پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فائر کھول دیا تھا۔

وزیراعلی سندھ کی کے-الیکٹرک پر تنقید

سندھ کے وزیراعلیٰ سید مرادعلی شاہ نے کراچی میں شہریوں کی مشکلات کا ذمہ دار کے-الیکٹرک کو قرار دیتے ہوئے سخت گرمی کے موسم میں لوڈ شیڈنگ پر کے-الیکٹرک کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

سندھ گورنمنٹ ہسپتال کورنگی نمبر 5 میں چائلڈ لائف فاونڈیش کے تحت بچوں کے ایمرجنسی روم کے افتتاح کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مرادعلی شاہ کا کہنا تھا کہ کے-الیکٹرک نہ صرف نظام کو اپ گریڈ کرنے میں ناکام ہوئی ہے بلکہ نظام میں ذرہ برابر بجلی بھی اضافہ نہیں کرپائی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب شہریوں کو بجلی کی طویل بندش اور اچانک لوڈ شیڈنگ سے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کے-الیکٹرک کی انتطامیہ سے ان کی ملاقات ہوئی تھی اور انھوں نے یقین دلایا تھا کہ افطار اور سحر کے دوران کوئی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی اور مجموعی طور پر بھی لوڈ شیڈنگ میں کمی کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ‘تمام یقین دہانیاں ہوا میں اڑا دی گئیں’۔

مرادعلی شاہ نے کہا کہ کراچی میں بجلی کی فراہمی میں ناکامی کا مطلب پانی کی فراہمی میں بھی ناکامی ہے۔

وزیراعلیٰ نے لوڈشیڈنگ کے تسلسل پر شہر میں ایمرجنسی کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا۔

حیسکو اور سیسکو کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دو کمپنیاں اندرون سندھ عوام کو بہتر خدمات پیش کرنے میں ناکام ہوئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘سندھ حکومت نے تین سال قبل بہتر کارکردگی کے لیے دونوں کمپنیوں کا چارج حاصل کرنے کی پیش کش کی تھی لیکن وفاقی حکومت نے اس وقت انکار کردیا تھا اور آج دونوں کی کارکردگی ناقص ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میں جانتا ہوں کہ اندروں سندھ کے عوام 21 گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ برداشت کررہے ہیں’، انھوں نے زور دیا کہ وفاقی حکومت سندھ کے عوام پر ترس کھائے اور نظام کر بہتر کرے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ‘500 کے وی کی لائن ٹرپ کرنا ناقابل قبول ہے اور تاحال اس کو مکمل طورپر بحال نہیں کیا گیا ہے’۔

ہیٹ ویو

کراچی میں طویل لوڈشیڈنگ کے بعد مختلف علاقوں میں شہریوں کو ہیٹ ویو کا سامنا کرنا پڑا جبکہ یہ سلسلہ پورے ملک میں جاری ہے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ پیر کے روز بلوچستان کے علاقے تربت میں 53 ڈگری گرمی ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ 10 سال میں ایک ریکارڈ ہے۔

ملک میں موسم کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ گرمی کا سلسلہ سندھ سمیت دیگر علاقوں میں پورے ہفتے جاری رہے گا۔

خیال رہے کہ سندھ میں 2015 میں ہیٹ ویو سے 1233 افراد جاں بحق ہوئے تھے

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s