ملازمین کے ساتھ بدسلوکی، ‘کھادی’ کو شدید تنقید کا سامنا

پاکستانی ملبوسات کی صنعت کے جانے پہچانے نام ‘کھادی’ کو ان دنوں ملازمین کے حقوق کو نظرانداز کرنے اور کام کے لیے ناسازگار ماحول کی فراہمی کے الزمات کے بعد شدید تنقید کا سامنا ہے۔

کھادی انتظامیہ کی جانب سے ملازمین سے برتے گئے ناروا سلوک کے خلاف کراچی اور لاہور میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران ملازمین اور انسانی حقوق کے لیے سرگرم کارکنان کئی احتجاجی مظاہرے کرچکے ہیں۔

کمپنی پر لگائے جانے والے الزامات میں انتظامیہ کی جانب سے اپنے بیشتر ملازمین کو مستقل کرنے کی یقین دہانی کے بعد ملازمت سے نکالا جانا اور بنا بتائے کھانے کا وقفہ لینے والی خاتون ملازم پر جرمانہ عائد کیے جانے جیسے الزامات شامل ہیں۔

فنکار اور عام افراد بھی کھادی کے اس رویے کے خلاف سوشل میڈیا پر اپنا غصہ نکالتے دکھائی دیئے۔

بیان میں کہا گیا کہ ‘کھادی نے حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے تمام تبصروں کا بغور جائزہ لیا ہے، جن کا مقصد ہماری ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے، پہلے ہم نے اس گمراہ کن اور جھوٹے مواد پر جواب نہ دینے کا فیصلہ کیا تاہم اب ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ معاملے کی وضاحت کی ضرورت ہے، ہم واضح طور پر اس بات کی تصدیق کرنا چاہتے ہیں کہ کھادی نے اپنے 32 ملازمین کو نوکریوں سے برطرف نہیں کیا’۔

592d285268f02.jpg

کھادی کا کہنا تھا ‘ہماری بدنامی کے لیے پھیلائی جانے والی ایک کہانی یہ بھی کہ ایک خاتون ملازم نے خودکشی کی کوشش کی، کوئی ایسا جھوٹ کیوں پھیلائے گا، ہماری سمجھ سے باہر ہے مگر ہم اس سازش کی تہہ تک جائیں گے’۔

مزید کہا گیا ‘بحیثیت ایک برانڈ ہم نے کوشش کی ہے کہ اپنے تمام شعبوں میں اعلیٰ معیار برقرار رکھیں، جس میں ہمارے ملازمین کے ساتھ برتا جانے والا سلوک بھی شامل ہے’۔

اپنے پیغام میں کھادی کا مزید کہنا تھا کہ ‘ہم سب سے اپیل کرتے ہیں کہ سنی سنائی باتوں پر مبنی کسی خبر کو شیئر نہ کریں اور نہ ہی ان گمراہ کن خبروں پر ہمارے بارے میں کوئی رائے قائم کریں، ایسا نہ صرف کھادی کے ساتھ بلکہ سوشل میڈیا پر بھی ہر حوالے سے کیا جانا چاہیئے کیونکہ جھوٹی افواہیں تیزی سے پھیلتی ہیں جو برانڈز اور معصوم لوگوں دونوں کے لیے نقصان دہ ہوسکتی ہیں’۔

تاہم ڈان سے بات کرتے ہوئے کمپنی کی ترجمان نے ملازمین کی برطرفی سے متعلق زیادہ واضح لہجہ اختیار نہیں کیا بلکہ ان کا کہنا تھا کہ کمپنی تھرڈ پارٹی معاہدے کے تحت ملازمین کو نوکری پر رکھتی ہے اور ایسے لوگوں کو کھادی کا ملازم نہیں کہا جاسکتا۔

انہوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کی کمپنی تھرڈ پارٹی کنٹریکٹرز کا آڈٹ کرے گی اور اس معاملے پر خصوصی نظر رکھی جائے گی۔

دوسری جانب مشتعل ملازمین، جن میں سے کئی کا دعویٰ ہے کہ کھادی نے انہیں کام کے لیے ناموافق حالات کے خلاف آواز اٹھانے پر ملازمت سے برطرف کیا، کمپنی کے خلاف کئی الزمات عائد کرتے ہیں۔

ان میں سے ایک الزام یہ ہے کہ کمپنی نے ملازمین کو نوکری دیتے ہوئے باقاعدہ تقرری کا خط جاری نہیں کیا، دوسرا وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سندھ ایمپلائز سوسائٹی سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن کارڈز جاری نہ کرکے انہیں سماجی تحفظ سے محروم رکھا جارہا ہے۔

اسی طرح یہ الزام بھی سامنے آیا کہ ملازمین کی تنخواہوں سے ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن کی مَد میں رقم کاٹ لی جاتی ہے مگر انہیں ای او بی آئی کارڈ جاری نہیں کیا گیا۔

کچھ ملازمین کے مطابق اُن سے 12 گھنٹوں سے زائد کام لیا جاتا ہے جبکہ عام تعطیل اور اتوار کو بھی کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، ساتھ ہی انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ اوور ٹائم کے عوض انہیں پیسے ادا کیے جاتے تھے۔

کام کرنے کی جگہ کے بارے میں ملازمین کا کہنا ہے کہ انہیں پینے کا صاف پانی مہیا نہیں کیا جاتا تھا جبکہ کام کے دوران بیت الخلاء کا استعمال بھی وہ چند بار کرسکتے تھے۔

علاوہ ازیں دوران ڈیوٹی زخمی ہونے والے ملازم کو قانون کے مطابق معاوضہ بھی جاری نہیں کیا جاتا تھا۔

لیبر رہنماؤں کی جانب سے کھادی کا بیان مسترد

مزدوروں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے ناصر منصور، جو نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری بھی ہیں، نے کھادی کی جانب سے سامنے آنے والے بیان کو مسترد کردیا۔

ڈان سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ملازمین اس سے قبل این آئی آر سی، جو لیبر کورٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہے، پہنچے تھے اور وہاں بتایا تھا کہ آواز بلند کرنے کی صورت میں انہیں نوکری ہاتھ سے جانے کا خدشہ ہے۔

ناصر منصور نے کہا کہ کھادی کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ ملازمین کو نوکریوں سے نہیں نکالا جائے گا جس کے بعد کیس کی سماعت ختم کردی گئی تھی تاہم 22 مئی کو ملازمین کو فیکٹری میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔

انہوں نے کھادی کے اس دعوے کی تردید بھی کہ وہ تھرڈ پارٹی معاہدے کے تحت مزدوروں کو ملازمت پر رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم کسی برانڈ یا کاروبار کو تباہ نہیں کرنا چاہتے تاہم صنعتی یونٹس میں غلامی قابل قبول نہیں’۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s