پاکستان سے کرکٹ سیریز کا امکان نہیں: بھارتی وزیر کھیل

بھارتی حکومت نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ان کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے ساتھ سیریز نہیں کھیلے گی۔

اخبار ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیر کھیل وجے گوئل نے نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘کرکٹ اور دہشت گردی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتی’۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق وجے گوئل نے یہ بھی کہا کہ ‘جب تک پاکستان کی جانب سے دہشت گردی برقرار رہتی ہے، بھارت اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ سیریز نہیں ہوسکتی’۔

انہوں نے واضح کیا کہ ‘بھارتی کرکٹ بورڈ کو پاکستان کو کوئی بھی تجویز پیش کرنے سے قبل حکومت سے بات کرنی چاہیے، میں یہ بات واضح کرچکا ہوں کہ سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی رکنے تک پاکستان کے ساتھ دو طرفہ سیریز ممکن نہیں البتہ کثیر القومی ایونٹس کے حوالے سے ہم کچھ نہیں کرسکتے۔’

خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت 4 جون کو چیمئپنز ٹرافی کے میچ میں آمنے سامنے ہوں گے۔

بھارتی کرکٹ بورڈ دو طرفہ سیریز کی بحالی کے لیے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا خواہاں ہے تاہم وہ یہ بھی کہہ چکا ہے کہ اس سلسلے میں حتمی فیصلہ بھارتی حکومت ہی کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی حکومت سے پاکستان سے سیریز کھیلنے کی اجازت طلب

ہندوستان ٹائمز کے مطابق بھارتی کرکٹ بورڈ کے قائم مقام سیکریٹری امیتابھ چوہدری نے وزیر کھیل وجے گوئل کے اس بیان کے بعد اپنے رد عمل میں کہا کہ ‘ہم سیریز کھیلنے کے حوالے سے پر عزم ہیں لیکن ہمارا یہ موقف نہیں تبدیل ہوا کہ سیریز بھارتی حکومت کی اجازت کے بغیر نہیں کھیلی جاسکتی’۔

انہوں نے بتایا کہ ‘جب پاکستان کرکٹ بورڈ نے ہمیں خط لکھا تو ہم نے اپنی حکومت کو دوبارہ خط بھیجا اور اس کے جواب کے منتظر ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے اور یہی وجہ ہے کہ ہم ملاقاتیں کررہے ہیں’۔

رواں ہفتے بھارتی کرکٹ بورڈ نے کہا تھا کہ اس نے دو ہفتے قبل ہی پاکستان سے سیریز کے حوالے سے حکومت کو یاد دہانی کرائی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 2012 کے بعد سے کوئی دو طرفہ سیریز نہیں ہوئی ہے۔

باہمی سیریز کی بحالی کے سلسلے میں مذاکرات کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ عہدے دار دبئی میں ملاقات کررہے ہیں جہاں بھارت کی جانب سے سیریز کھیلنے سے انکار پر پاکستان کو ہونے والے مالی نقصان پر بات کی جائے گی۔

بھارتی کرکٹ بورڈ نے 2014 میں پاکستان کے ساتھ ایک سمجھوتے کی یادداشت پر دستخط کیے تھے جس کے تحت دونوں ملکوں کو 2015 سے 2023 کے دوران 6 دوطرفہ سیریز کھیلنی تھی جن میں سے 4 کی میزبانی پاکستان اور دو کی میزبانی بھارت کو کرنی تھی۔

یہ سمجھوتہ بھارتی کرکٹ بورڈ نے اس تعاون کے بدلے کیا تھا جو پاکستان نے بگ تھری کی حمایت کی صورت میں کیا تھا تاہم بگ تھری کا ماڈل رواں برس اپریل میں ختم کردیا گیا ہے۔

اب پاکستان کرکٹ بورڈ بھارت کی جانب سے معاہدے پر عمل نہ کرنے پر 6 کروڑ 94 لاکھ ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کررہا ہے جبکہ بی سی سی آئی کا موقف ہے کہ اسے حکومت کی جانب سے سیریز کھیلنے کی اجازت نہیں مل رہی۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s