بجٹ 18-2017: تاجروں،صنعتکاروں کا ملا جلا ردعمل

images (15)

تاجروں اور صنعتکاروں نے آئندہ مالی سال کے بجٹ پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جبکہ ماہر معاشیات کا کہنا تھا کہ بجٹ میں برآمدات کو بڑھانے کے لیے اقدامات کا ذکر نہیں کیا گیا۔

اسلام آباد چیمبر آف کامرس نے بجٹ کاروباری برادری کی خواہشات کے مطابق قرار دیا، جبکہ لاہور چیمبر کے صدر عبدالباسط کا کہنا تھا کہ زراعت کے شعبے کو مراعات دینے سے صنعت کو فروغ ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’حکومت نے بجٹ میں زراعت کے شعبے کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے جو کہ ایک حوصلہ افزا بات ہے، جبکہ اس سے بالواسطہ طور پر پورے صنعتی شعبے کو فائدہ ہوگا۔‘

معروف صنعتکار عقیل کریم ڈیڈھی کا کہنا تھا کہ معیشت کی بہتری کے لیے نمائشی فیصلے نہیں مشکل اقدامات کرنا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’حکومت بجٹ میں عوام کو اچھی باتیں ضرور بتاتی ہے لیکن اس کے بعد وہ بجٹ کے کاغذات ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں، جبکہ میرے خیال سے ملکی معیشت کی صورتحال کچھ زیادہ اچھی نہیں ہے۔‘

ماہر معاشیات امین ہاشوانی نے کہا کہ برآمدات کو بڑھانے کے لیے بجٹ میں اقدمات کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ’حکومت نے بجٹ میں عوام کو کچھ زیادہ ریلیف تو نہیں دیا لیکن بجٹ زیادہ بُرا بھی نہیں تھا۔‘

واضح رہے کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 18-2017 کا 47 کھرب 50 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کردیا۔

بجٹ تقریر کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’رواں مالی سال جی ڈی پی میں اضافے کی شرح 5.3 فیصد رہی جو پچھلے 10 سال میں ترقی کی بلند ترین شرح ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’آج پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور پاکستان 2030 تک دنیا کی 20 بڑی اقتصادی طاقتوں میں شامل ہوجائے گا۔‘

کراچی اسمال ٹریڈرز کے نمائندے جاوید شیخ نے بجٹ کو متوازن قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مِنی بجٹ نہیں آئے گا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s