مانچیسٹر خود کش حملہ: مزید تین افراد کو حراست میں لے لیا گیا

 

مانچیسٹر میں ہونے والے بم دھماکے میں ملو ہونے کے الزام میں بدھ کو مزید تین افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور پولیس کی جانب سے تفتیش جاری ہے کہ آیا مشتبہ بمبار شخص سلمان عبیدی تنہا کام تو نہیں کر رہا تھا۔

سلمان عبیدی کے 23 سالہ بھائی کو منگل کے روز حراست میں لیا گیا تھا۔

ویسٹ منسٹر پیلیس کی ویب سائٹ کے مطابق پیلیس کو پولیس کے مشورے کے بعد غیر معینہ مدت تک عوام کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب وزارت دفاع کے مطابق بکنگھم پیلیس میں گارڈز کی تبدیلی کی تقریب منسوخ کر دی گئی ہے تاکہ پولیس کی از سر نو تعیناتی کی جا سکے۔

ادھر برطانیہ کی وزیر اعظم ٹریزا مے نے خبردار کیا ہے کہ مانچیسٹر حملے کے بعد برطانیہ میں کسی بھی وقت اگلا حملہ ہو سکتا ہے اور اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے خطرے کی سطح کو بڑھا دیا گیا ہے۔

دوسری جانب برطانیہ کی وزیر داخلہ امبر رڈ نے کہا ہے یہ ‘بہت ممکن’ ہے کہ مانچیسٹر حملے کا مشتبہ بمبار سلمان عبیدی تنہا کام نہیں کر رہا تھا۔

ہلاک ہونے والوں میں سے چار افراد کے ناموں کو ظاہر کیا گیا ہے جن میں آٹھ سالہ سفی روز روسیز، 15 سالہ اولیویا کیمپبل، 28 سالہ جان ایٹکنسن اور تقریبا 18 سالہ جورجینا کیلنڈر شامل ہیں۔

ٹریسا مےتصویر کے کاپی رائٹPA
Image captionوزیر اعظم ٹریزا مے کا کہنا تھا کہ تحقیقاتی ادارے اب تک اس بات کو یقینی نہیں بنا سکے کہ آیا سلمان عبیدی حملے میں اکیلا ملوث تھا یا اس کو کسی کی مدد حاصل تھی۔

حکومت نے مزید حملوں کے امکان کے پیشِ نظر خطرے کی سطح کو بڑھا کر ‘کریٹیکل’ کر دیا ہے جبکہ تمام اہم عمارتوں کی نگرانی کے لیے فوج تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ منگل کی شام کابینہ کی ‘کوبرا’ کمیٹی کے اجلاس کے بعد کیا گیا۔

وزیر اعظم ٹریزا مے کا کہنا تھا کہ یہ اقدام اس لیے اٹھایا گیا ہے کہ تحقیقاتی ادارے اب تک اس بات کو یقینی نہیں بنا سکے کہ آیا سلمان عبیدی حملے میں اکیلا ملوث تھا یا اس کو کسی کی مدد حاصل تھی۔

ٹریزا مے کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بات کے امکانات بھی ہیں کہ مانچیسٹر حملے میں ایک شخص نہیں بلکہ ’کوئی گروہ‘ ملوث ہو۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پولینڈ کے وزیر خارجہ نے کہا کہ دھماکے کے بعد جو پولش باشندے گمشدہ تھے وہ ہلاک ہونے میں شامل ہیں۔

امبر رڈ نے کہا کہ انھیں اس بات کا پورا ‘یقین’ ہے کہ سیکورٹی کی سطح جو ‘کریٹیکل’ قرار دی گئی ہے وہ عارضی ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ بمبار کے بارے میں ‘کچھ حد تک’ انٹیلیجنس سروس کو پتہ تھا۔

امبر رڈتصویر کے کاپی رائٹPA
Image captionوزیر داخلہ مز امبر رڈ نے خطرے کی سطح کو عارضی بتایا ہے

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ برطانیہ بھر میں سڑکوں پر 3800 فوجی تعینات کیے جا سکتے ہیں۔

امبر رڈ نے کہا کہ حکومت کے ریڈیکلائزیشن مخالف پروگرام ‘پریونٹ’ میں جون کے بعد سے اضافہ کیا جائے گا۔

دہشت گردی کے خطرے میں اضافہ اس صورت میں کیا گیا ہے جب جانچ کرنے والوں نے اس بات سے انکار نہیں کیا کہ مشتبہ بمبار سلمان عبیدی کسی گروپ کا حصہ تھا۔

مانچیسٹر پولیس کا کہنا ہے کہ حملے کا ذمہ دار 22 سالہ لیبیائی نژاد شخص سلمان عبیدی تھا۔

گریٹر مانچیسٹر پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں اب ان کی ترجیح یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا عبیدی اس حملے کی منصوبہ بندی میں اکیلا تھا یا کسی کے ساتھ مل کر کام کر رہا تھا۔

مانچیسٹر ایرینا میں ہونے والے حملے میں 22 افراد ہلاک اور 59 زخمی ہوئے ہیں۔

ایلبرٹ حال میں دو خواتین ایک دوسرے کو غم میں سہارا دے رہی ہیںتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionمانچیسٹر کے ایلبرٹ حال میں حملے کے بعد منگل کو دعائیہ تقریب منعقد ہوئی

حملہ آور کون تھا؟

حکام نے مشتبہ خود کش حملہ آور کے والدین کا تعلق لیبیا سے بتایا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار ڈینیئل سینڈفرڈ کے مطابق 22 سالہ سلمان عبیدی 31 دسمبر 1994 کو مانچیسٹر میں ہی پیدا ہوا تھا۔

اطلاعات کے مطابق سلمان عبیدی کے کم از کم تین بہن بھائی ہیں۔

ان کا ایک بڑا بھائی ہے جو لندن میں پیدا ہوا اور سلمان عبیدی سے چھوٹی ایک بہن اور بھائی ہیں جو مانچیسٹر میں پیدا ہوئے تھے۔

سنہ 2014 سے برطانیہ میں حملے کے خطرے کی سطح اس سے ایک درجہ کم تھی جس کا مطلب تھا کہ ’حملے کے امکانات بہت زیادہ ہیں‘۔

خطرے کی سطح کو انتہائی درجے تک اس سے پہلے صرف دو مرتبہ لے جایا گیا ہے۔

ایسا پہلی بار سنہ 2006 میں اس وقت کیا گیا تھا جب ٹرانس اٹلانٹک فلائٹس پر مائع بموں کی مدد سے حملہ کرنے کے منصوبے کو ناکام بنایا گیا تھا۔

وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ حکومت نے ’آپریشن ٹیمپیرر‘ کا آغاز کر دیا ہے اور اس کے تحت عوام کے تحفظ کے لیے اہم عوامی مقامات پر مسلح پولیس کی مدد کے لیے فوج کو تعینات کیا جائے گا۔

ٹریزا مے کا کہنا تھا کہ آنے والے ہفتوں میں پولیس کو مختلف جگہوں پر جیسا کہ کنسرٹس وغیرہ میں بھی تعینات کیا جائے گا اور وہ پولیس آفسروں کے ماتحت کام کریں گے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s