مانچیسٹر میں کنسرٹ کے دوران خودکش حملے میں 22 ہلاک، 59 زخمی

برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ مانچیسٹر میں امریکی گلوکارہ کے کنسرٹ کے موقع پر ہونے والا دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد 22 تک پہنچ گئی ہے اور ہلاک شدگان میں بچے بھی شامل ہیں۔

حملے میں 59 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں اور طبی حکام کے مطابق ان میں سے 12 بچوں کی عمر 16 سال سے کم ہے۔

پولیس نے مانچیسٹر کے جنوبی علاقے چورلٹن سے ایک 23 سالہ شخص کو حملے میں ملوث ہونے کے شبہے میں گرفتار کیا ہے۔

یہ دھماکہ پیر کی شب مقامی وقت کے مطابق دس بج کر 35 منٹ پر اس وقت ہوا جب مانچیسٹر ایرینا میں گلوکارہ آریانا گرینڈے کا کنسرٹ ختم ہی ہوا تھا۔ دھماکہ ہال کے بیرونی علاقے میں ہوا جہاں باہر نکلنے والے افراد کا ہجوم موجود تھا۔

برطانیہ کی وزیراعظم ٹریزامے نے اس کارروائی کو قابل نفرت قرار دیا ہے اور اپنی انتخابی مہم کو بھی معطل کر دیا ہے۔

ڈاؤننگ سٹریٹ سے جاری ہونے والے بیان میں وزیراعظم ٹریزا مے کا کہنا تھا کہ ‘اس میں کوئی شک نہیں کہ مانچیسٹر اور اس ملک کے لوگ سنگدل دہشت گرد حملے کا نشانہ بنے ہیں جس میں نہتے نوجوان لوگوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔’

ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اداروں کے خیال میں حملہ آور تنہا تھا لیکن وہ اس امر کی تفتیش کر رہے کہ کیا اسے کسی کی مدد بھی حاصل تھی۔

مےتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionبرطانیہ کی وزیراعظم ٹریزامے نے اس کارروائی کو قابل نفرت قرار دیا ہے

ان کا یہ بھی کہنا تھا سکیورٹی اداروں کے خیال میں وہ حملہ آور کی شناخت جانتے ہیں لیکن اس کے نام کی تصدیق نہیں کی گئی۔

برطانیہ کی وزیراعظم منگل کو کابینہ کی ‘کوبرا’ کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کی صدارت بھی کی۔

ادھر ملک کی وزیرِ داخلہ ایمبر رڈ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ ایک ظالمانہ حملہ تھا جس کا ہدف واضح طور پر کمزور افراد کو نشانہ بنانا تھا۔

مانچیسٹر پولیس نے ابتدائی طور پر اسے دہشت گردی کی ممکنہ کارروائی قرار دیا تھا تاہم منگل کی صبح مانچیسٹر کے چیف کانسٹیبل ایئن ہوپکنز نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا۔

ukتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES

ان کا کہنا تھا کہ ‘میں تصدیق کر سکتا ہوں کہ حملہ آور ایرینا میں ہی ہلاک ہوا۔ ہمارے خیال میں حملہ آور ایک آئی ای ڈی لے کر آیا اور اس کی مدد سے دھماکہ کر دیا۔’

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘اس موقع پر ہم سمجھتے ہیں کہ اس حملے میں ایک ہی شخص شامل تھا تاہم ترجیح اسی بات کو دی جا رہی ہے کہ آیا یہ اس کا تنہا اقدام تھا یا وہ کسی نیٹ ورک کا حصہ تھا۔’

پولیس کی جانب سے حملہ آور کی شناخت کے بارے میں تاحال کچھ بھی نہیں کہا گیا۔تاہم شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنے ایک پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ اس کے ایک حامی نے کیا۔

منگل کو بھی پولیس نے جائے وقوع کے گرد حصار قائم کیا ہوا ہے اور تحقیقاتی ٹیمیں وہاں سے شواہد اکٹھے کر رہی ہیں۔

ukتصویر کے کاپی رائٹPA

یہ برطانیہ میں سنہ 2005 میں لندن کے زیرِ زمین ٹرین نظام پر ہونے والے حملوں کے بعد دہشت گردی کی سب سے بڑی کارروائی ہے۔

جولائی 2005 میں ہونے والے خودکش بم حملوں میں 52 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس واقعے کے بعد متعدد افراد لاپتہ بھی ہیں جن کے لواحقین انھیں سوشل میڈیا کے ذریعے تلاش کر رہے ہیں۔

مانچیسٹر پولیس نے اس سلسلے میں ایک ہنگامی ٹیلیفون لائن بھی قائم کر دی ہے جس کا نمبر 0161 856 9400 ہے۔

دھماکے کے بعد جائے وقوع کے نزدیک واقع وکٹوریہ ٹرین سٹیشن کو بند کر دیا گیا اور ٹرینوں کی آمدورفت معطل ہے۔

کنسرٹتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES

دھماکے کے بعد جائے وقوع کے نزدیک واقع وکٹوریہ ٹرین سٹیشن کو بند کر دیا گیا اور ٹرینوں کی آمدورفت معطل ہے۔

پولیس نے اس واقعے کے بعد مقامی وقت کے مطابق شب ایک بجکر 32 منٹ پر کیتھڈرل گارڈن میں ایک کنٹرولڈ دھماکہ بھی کیا تاہم بعد ازاں بتایا گیا کہ وہاں کوئی مشتبہ چیز موجود نہیں تھی۔

مانچسٹر ایرینا جو پہلے ‘مین ایرینا’ کے نام سے موسوم تھا وہ شہر کا سب سے بڑا ہال ہے جہاں تقریباً 18 ہزار افراد کے بیٹھنے کی بیک وقت گنجائش ہے۔ اطلاعات کے مطابق حادثے کے وقت وہاں ہزاروں افراد موجود تھے جن میں بڑی تعداد نوجوانوں کی تھی۔

دھماکے کے بعد مانچیسٹر میں جہاں ٹیکسی ڈرائیورز نے مفت خدمات فراہم کیں وہیں مقامی آبادی کی جانب سے سوشل میڈیا پر شہر کے باہر سے کنسرٹ میں آنے والوں کو رہائش کی پیشکش بھی کی گئی۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s