مشال خان قتل: چالیس روز بعد یونیورسٹی میں تعلیمی سلسلہ بحال

پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں مشال خان کے قتل کے چالیس روز بعد تعلیمی سرگرمیاں بحال ہوگئی ہیں۔ اس سے قبل پولیس نے یونیورسٹی ہاسٹل کی تلاشی کے دوران اسلحہ بھی برآمد کر لیا۔

Pakistan Proteste nach Mord an Mashal Khan (Getty Images/AFP/B. Khan)

مشال خان کے قتل کے سوا مہینے سے بھی زیادہ عرصے بعد مردان کی اس یونیورسٹی کے ہاسٹل کے طلبا کے لیے دوبارہ کھولے جانے سے قبل پولیس نے مختلف کمروں کی تلاشی بھی لی، جس دوران چند کمروں سے اسلحہ بھی برآمد ہوا۔

مردان پولیس کے سربراہ میاں سعید احمد کے مطابق، ’’ہاسٹل کے مختلف کمروں سے اسلحہ برآمد کیا گیا، جس کے بعد اس ہاسٹل کو مکمل طور پر کلیئر کرنے کے بعد انتظامیہ کے حوالے کردیا گیا۔‘‘ عبدالولی خان یونیورسٹی کو تعلیمی سرگرمیوں کے لیے کھولنے کا فیصلہ اس دارے کی سنڈیکیٹ کے اعلٰی سطحی اجلاس میں کیا گیا تاہم اس یونیورسٹی کے دو کیمپس تین روز بعد کھولے جائیں گے۔

اس یونیورسٹی کے مردان میں مرکزی کیمپس کے ساتھ ساتھ بپی، بونیر، تیمر گرہ اور چترال کیمپس میں بھی تعلیمی سرگرمیاں بحال ہوگئی ہیں۔ آج پیر بائیس مئی کے روز بڑی تعداد میں طلبا و طالبات نے یونیورسٹی کا رخ کیا تاہم بہت سے طلبا بالخصو ص طالبات مقابلتاﹰ خوفزدہ رہیں۔

ان طالبات کا کہنا تھا کہ ابھی تک پولیس مشال خان کے قتل کی ویڈیو کی بنیاد پر گرفتاریاں کر رہی ہے، جس کی وجہ سے عام طلبا خوف زدہ ہیں کہ کہیں انہیں بھی گرفتار نہ کر لیا جائے۔

Pakistan | Student Mashal Khan von Kommilitonen glyncht wegen angeblich blasphemischen Äußerungen (Reuters/F. Aziz)مشال خان کو تیرہ اپریل کو قتل کیا گیا تھا

مردان کے سینئر صحافی مسرت عاصی سے جب اس صورتحال کے بارے میں  ڈوئچے ویلے نے گفتگو کی، تو ان کا کہنا تھا، ’’پولیس نے اب تک ساٹھ افراد کو گرفتار کیا ہے اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے، جس سے طلبا و طالبات خوفزدہ ہیں۔ اب جب کہ طلبا کی تعلیم کا قریب ڈیڑھ ماہ ضائع ہو چکا ہے، یونیورسٹی انتظامیہ کو گرمیوں کی چھٹیوں کی قربانی دے کر طلبا کا تعلیمی کورس مکمل کروانا چاہیے۔ اس کے علاوہ پولیس کو بھی اس کیس کی تفتیش میں اب تک کی پیش رفت کو عوام کے سامنے لانا چاہیے تاکہ خوف کی فضا ختم ہو۔‘‘

تیرہ اپریل کو ولی خان یونیورسٹی کو اس وقت بند کر دیا گیا تھا، جب ایک مشتعل ہجوم نے جرنلزم ڈیپارٹمنٹ کے طالب علم مشال خان کو مبینہ توہین مذہب کے نام پر قتل کر دیا تھا۔

ادھر مشال خان کے چہلم کے سلسلے میں ان کے آبائی گاؤں میں ہونے والی دعائیہ تقریب میں سیاسی اور سماجی شخصیات کے علاوہ ایک افغان سفارت کار نے بھی شرکت کی۔ اس تقریب میں ایک قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ مشال خان قتل کیس کو فوجی عدالت میں منتقل کیا جائے۔ مقررین کا مطالبہ تھا کہ اس جرم میں ملوث افراد کو جلد از جلد سزا دی جائے تاکہ ایسے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔

Pakistan Imran Khan is visiting Mashal Khan home (PTI)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان مشال خان کے والد اور دیگر اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے

اس موقع پر مشال خان کے والد محمد اقبال کا کہنا تھا، ’’مشال ہمارے خاندان کا اثاثہ تھا۔ وہ اب ہمیں واپس تو نہیں مل سکتا۔ لیکن میں حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ بچوں کو تعلیم دینے سے قبل ان کی زندگیوں کا تحفظ بھی کیا جائے۔‘‘

اقبال خان نے مزید کہا، ’’مجھے یقین تھا کہ مشال خان میرے اور میرے خاندان سمیت غریبوں اور محنت کشوں کا اثاثہ ثابت ہوگا۔ عدم تشدد پر یقین رکھنے والے امن اور برداشت کے پیغام کو آگے بڑھائے گا۔ ہمیں یہی کام کرنا چاہیے۔ یہی اس ملک اور قوم کے مفاد میں ہے۔‘‘

مشال خان قتل کیس میں اب تک ساٹھ افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں اور گرفتاریوں کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ اس قتل کے چالیس روز بعد ہاسٹل کی تلاشی اور وہاں سے اسلحے کی برآمدگی کے بعد یہ سوال بھی اٹھائے جا رہے ہیں کہ پولیس نے یہ کارروائی اس قتل کے فوری بعد کیوں نہیں کی تھی۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s