قائد اعظم یونیورسٹی کے 2 طلبہ گرفتار، مقدمہ درج

images (13).jpg

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے 20 مئی کو قائد اعظم یونیورسٹی میں طلبہ تنظیموں کے درمیان ہونے والے تصادم میں ملوث ہونے پر 2 طالب علموں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔

ایف آئی آر تھانہ سیکریٹریٹ میں ڈپٹی رجسٹرار ایڈمن قائد اعظم یونیورسٹی ہمایوں خان کی مدعیت میں شفقت منگریو اور منصور سومرو کے خلاف درج کی گئی تاہم ان کے علاوہ تصادم میں ملوث دیگر طلبہ بھی پولیس کی حراست میں ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق دو طلبہ تنظیموں ’مہران کونسل‘ اور ’بلوچ اسٹوڈنٹس باڈی‘ کے قائدین نے اپنے حامیوں کو نفرت انگیز تقریر کر کے تشدد پر اکسایا جس کے بعد یہ واقعہ رونما ہوا۔

ایف آئی آر میں موقف اختیا کیا گیا ہے کہ شفقت منگریو ہاسٹل کی چھت پر موجود تھا اور اس نے اپنی پستول سے ہوائی فائرنگ بھی کی تھی تاہم ان کا اسلحہ برآمد کر کے ان کے خلاف غیر قانونی اسلحہ رکھنے کا مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مہران کونسل کے سربراہ فہد نے تنظیمی اجلاس میں موجود ساتھی طلبہ کو نفرت انگیز تقریر کرکے اکسایا۔

ایف آئی آر کے مطابق مہران کونسل کے تمام ممبران ہاسٹل کے کمرہ نمبر 8 پر پہنچے جہاں فہد موجود تھا اور اپنے ساتھیوں کو نفرت انگیز تقریر سے اشتعال دلا رہا تھا۔

بعد ازاں مہران کونسل کے حامیوں نے بلوچ طلبہ کو محصور کرنے کی کوشش کی جس کے بعد ان دونوں تنظیموں کے درمیان تصادم شروع ہوگیا۔

ایف آئی آر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دونوں تنظیموں کے سربراہان نے ایک دوسرے کو مارنے پر اپنے حامیوں کو اکسانے کے لیے نفرت انگیز بیانات کا سہارا لیا۔

ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ اس تصادم کے دوران مقامی پولیس اہلکار، ضلعی انتظامیہ، اور یونیورسٹی کے ممبران بھی جائے وقوع پر موجود تھے۔

یاد رہے کہ اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی میں دو طلبہ تنظیموں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 355 طلبہ زخمی ہوگئے تھے۔

جس کے بعد انتظامیہ نے حالات پر قابو پانے کے لیے پولیس کو طلب کیا تھا جبکہ مشتعل طلبہ نے پولیس پر بھی پتھراؤ کیا اور حالات قابو سے باہر ہونے پر رینجرز کی نفری بھی طلب کی گئی تھی۔

قائد اعظم یونیورسٹی کو کشیدہ صورتحال کے باعث ایک ہفتے کے لیے بند کردیا گیا ہے، جبکہ پولیس نے طلبہ کو فوری طور پر ہاسٹلز خالی کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔

تصادم کے نتیجے میں زخمی ہونے والے طلبہ کو پولی کلینک ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں 25 زخمیوں کو طبی امداد دے کر فارغ کردیا گیا تھا جبکہ دیگر کا علاج جاری ہے۔

واضح رہے کہ دونوں طلبہ تنظیموں میں ایک ہفتہ قبل بھی تصادم ہوا تھا جس کے بعد سے ان کے درمیان کشیدگی چل رہی تھی۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s