ایران میں نئے صدر کے انتخاب کے لیے پولنگ جاری

ایران میں رائے دہندگان جمعے کو ملک کے نئے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں۔

صدارتی انتخاب میں ملک کے موجودہ اعتدال پسند صدر حسن روحانی کو قدامت پسند رہنما ابراہیم رئیس سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔

ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد کہا کہ چونکہ یہ انتخابات بہت اہم ہیں اس لیے سبھی ایرانیوں کو ووٹ ڈالنے کے لیے نکلنا چاہیے۔

صدارتی انتخابی مہم کے دوران معاشی مسائل چھائے رہے کیونکہ ملک میں بے روزگاری کی شرح کافی بلند ہے جبکہ بیرونی سرمایہ کاری بھی نہیں ہوسکی ہے۔

68 سالہ موجودہ صدر حسن روحانی اعتدال پسند عالم ہیں جنھوں نے 2015 میں عالمی رہنماؤں سے جوہری معاہدے پر بات چیت کی تھی اور اہم معاہدہ طے پایا لیکن اس معاہدے کے ثمرات ابھی تک عوام تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔

ابراہیم رئیس الساداتی کی عمر 56 برس کی ہے اور وہ قدامت پسند خیالات کے مذہبی عالم ہیں، سابق سرکاری وکیل ابراہیم رئیس کو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریب مانا جاتا ہے۔

حسن روحانی
صدر حسن روحانی اعتدال پسند عالم ہیں جنھوں نے گذشتہ انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کی تھی

اگر ان دونوں میں سے کسی بھی امیدوار کو 50 فیصد ووٹ نہیں ملتے ہیں تو پھر اگلے ہفتے ان دونوں میں کسی ایک کے انتخاب کے لیے پھر سے پولنگ ہوگی۔

سنہ 1985 کے بعد سے ایران میں ہر صدر کو دوبارہ انتخاب میں کامیابی ملی ہے۔

ایرانی وزارت داخلہ کے مطابق ملک بھر میں 63500 پولنگ مراکز ووٹنگ کے لیے صبح آٹھ بجے کھلے جو شام کے چھ بجے تک کھلے رہیں گے۔

گذشتہ انتخابات میں چونکہ لوگ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے نکلے تھے اس لیے شام کو چھ بجے کے بعد بھی پولنگ سٹیشنز کھلے رکھے گئے تھے۔

امکان ہے کہ سنیچر تک انتخاب کے نتائج سامنے آجائیں گے۔

صدارتی انتخاب کے لیے نگراں اداے شوریٰ نگہبان نے چھ امیدواروں کے ناموں کی منظوری دی تھی لیکن بعد میں اس میں سے دو امید واروں نے اپنے نام واپس لے لیے تھے۔

ابراہیم رائیسی
ابراہیم رائیسی کی عمر 56 برس کی ہے اور وہ قدامت پسند خیالات کے مذہبی عالم ہیں، رائیسی کو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنئی سے قریب مانا جاتا ہے

نام واپس لینے والوں میں سخت گیر نظریات کے حامل تہران کے میئر محمد باقر قلباف بھی تھے جنھوں نے پیر کے روز ابراہیم رئیس کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

دوسری جانب نائب صدر اسحق جہانگیری نے بھی منگل کو اپنا نام واپس لیا تھا اور انھوں نے حسن روحانی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

اس کے علاوہ دو امیدوار ان دونوں کے مقابلے میں اب بھی میدان میں ہیں۔ مصطفی ہاشم طبا جو اصلاح پسند ہیں جبکہ مصطفی آقا میرسلیم سخت گیر نظریات کے حامل ہیں۔

انتخابی مہم کے آخری دن سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا تھا کہ صدارتی انتخاب کی مقبولیت کا ثبوت دینے کے لیے لوگ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے نکلیں۔

ان کا کہنا تھا: ‘امریکی، یورپی افسران اور صہیونی حکومت کے لوگ انتخابی عمل میں لوگوں کی شرکت کا جائزہ لینے کے لیے ہمارے انتخابات پر نظریں لگائے ہوئے ہیں۔’

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s