ہارٹ اٹیک کی ایک حیران کن علامت کا انکشاف

images (11).jpg

ہر سال کروڑوں افراد کو دل کے دورے کا سامنا ہوتا ہے جن میں سے لاکھوں کے لیے زندگی کا سفر ختم بھی ہوجاتا ہے۔

ہارٹ اٹیک کی روایتی علامات جیسے سینے میں درد یا دباﺅ، ٹھنڈے پسینے، انتہائی کمزوری وغیرہ تو سب کو معلوم ہی ہے مگر اب طبی ماہرین نے ایک ایسی حیران کن وجہ بھی دریافت کی ہے جو کہ دل کے دورے سے کئی ہفتے پہلے سامنے آتی ہے۔

یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

سڈنی یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ فلو یا نمونیا جیسے سانس کے انفیکشن کے امراض بھی ہارٹ اٹیک کی ایک علامت ثابت ہوسکتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ نظام تنفس کے امراض ہارٹ اٹیک کا باعث بن سکتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق نزلہ زکام یا فلو وغیرہ مختلف افراد میں ہارٹ اٹیک سے ایک سے5 ہفتے قبل نمودار ہوتے ہیں۔

578 مریضوں پر ہونے والی تھقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ سانس کا انفیکشن ہارٹ اٹیک کا باعث بن سکتا ہے خصوصاً نزلہ زکام یا فلو کا مرض لاحق ہونے کے ایک ہفتے بعد اس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے جو بتدریج کم ہونے لگتا ہے مگر پھر بھی ایک ماہ تک برقرار رہتا ہے۔

یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

سڈنی یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ فلو یا نمونیا جیسے سانس کے انفیکشن کے امراض بھی ہارٹ اٹیک کی ایک علامت ثابت ہوسکتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ نظام تنفس کے امراض ہارٹ اٹیک کا باعث بن سکتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق نزلہ زکام یا فلو وغیرہ مختلف افراد میں ہارٹ اٹیک سے ایک سے5 ہفتے قبل نمودار ہوتے ہیں۔

578 مریضوں پر ہونے والی تھقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ سانس کا انفیکشن ہارٹ اٹیک کا باعث بن سکتا ہے خصوصاً نزلہ زکام یا فلو کا مرض لاحق ہونے کے ایک ہفتے بعد اس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے جو بتدریج کم ہونے لگتا ہے مگر پھر بھی ایک ماہ تک برقرار رہتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ ان بظاہر عام امراض کے آغاز سے ہی امراض قلب کا خطرہ نہیں بڑھتا بلکہ یہ اولین سات دنوں کے دوران عروج پر ہوتا ہے جس کے بعد ایک ماہ کے عرصے تک اس کی شرح میں کمی آنے لگتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گلے کا انفیکشن بھی ہارٹ اٹیک کا خطرہ تیرہ گنا تک بڑھا دیتا ہے۔

فلو یا نزلہ زکام کے دوران گلے کی تکلیف، کھانسی، بخار اور ناک میں درد وغیرہ ہارٹ اٹیک کے خطرے کی علامات ہوتی ہیں۔

محققین کے خیال میں ممکنہ طور پر سانس کا انفیکشن خون میں لوتھڑے، ورم اور شریانوں کو نقصان پہنچا کر ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

یہ تحقیق طبی جریدے انٹرنل میڈیسین جرنل میں شائع ہوئی۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s