خاتون رکن کو ’چور‘ کہنے پر تحریک انصاف کا قومی اسمبلی سے واک آؤٹ

وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف کی جانب سے خاتون رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی کو بجلی چور کہنے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران خواجہ آصف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’کل ایک معزز ایم این اے پیسکو کے خلاف احتجاج کی سربراہی کر رہی تھیں، اس ایم این اے کے فیڈر پر 89 فیصد چوری ہے اور ان کے ساتھ والے فیڈر پر 91 فیصد چوری ہے۔‘

fp15-640x421

انہوں نے عائشہ گلالئی کو چور قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’بجلی نہ ہونے کے خلاف چور احتجاج کر رہے تھے۔‘

اسپیکر ایاز صادق نے خواجہ آصف کے یہ الفاظ کارروائی سے حذف کردیئے۔

عائشہ گلالئی نے کہا کہ ’کیا اپنا حق اور بجلی مانگنا چوری ہے، پاکستان کے عوام سے ہر بجٹ میں بجلی بنانے کے پیسے لیے جاتے ہیں لیکن حکومت بجلی دینے میں ناکام ہے، اگر لوگ اپنے حق کی خاطر سڑکوں پر آئیں تو انہیں چور کہا جارہا ہے جو کہ زیادتی اور قابل مذمت ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پورے ملک میں 20 گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے، یہ اپنی نااہلی کا اعتراف کریں۔‘

خواجہ آصف کے ریمارکس پر ایوان میں تحریک انصاف کے ارکان نے احتجاج کیا اور حکومت مخالف نعرے لگائے۔

تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے کہا کہ ’وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف چور ہیں۔‘

اس موقع پر قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ ’لاہور میں بھی بجلی کی اتنی ہی چوری ہو رہی ہے وہ کیوں نہیں نظر آتی، ملک میں ہر جگہ بجلی چوری ہے کیا سب کی بجلی بند کر دیں، جب ہم ایک دوسرے کو چور کہیں گے تو ہمیں باہر سے کسی دشمن کی ضرورت نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جو بل دیتے ہیں یا نہیں دیتے سب کو لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے، کیا بحلی چور اور بل نہ دینے والوں سے ووٹ بھی نہیں لیا جائے گا، خواجہ آصف اپنے الفاظ واپس لیں تو معاملہ حل ہوجائے گا۔‘

بعد ازاں خواجہ آصف کے ریمارکس کے خلاف تحریک انصاف کے ارکان نے قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کیا۔

تحریک انصاف کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور جماعت اسلامی نے بھی ایوان سے واک آوٹ کیا۔

فاٹا کا ’انضمام‘

قبل ازیں خورشید شاہ نے کہا کہ فاٹا اصلاحات پر ایک رکن اسمبلی نے دھمکی دی کہ اگر یہ بل ایوان میں لایا گیا تو لڑائی ہوگی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس رکن نے وزیر اعظم سے بات کی اور بل روک دیا گیا۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ حکومت ایک طرف فاٹا کے عوام کو لالی پاپ دے رہی ہے تو دوسری طرف اپنے اتحادیوں کے ذریعے مخالفت کروا رہی ہے، حکومت اگر فاٹا کے انضمام میں سنجیدہ ہے تو بل لائے، ایوان میں ووٹنگ کروا لیں جس نے مخالفت کرنی ہے کر لے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s