میں جانتا ہوں کہ میں زیرِ تفتیش نہیں ہوں: ڈونلڈ ٹرمپ کا روس کو حقائق بتانے کے ’مکمل اختیار‘ کا دفاع

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس سے خفیہ معلومات کا تبادلہ کرنے کے لیے خود کو حاصل اختیار کا دفاع کیا ہے۔

امریکی صدر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ انھوں نے یہ معلومات دہشت گردی کے حقائق اور ایئر لائن کی حفاظت کے لیے فراہم کیں اور وہ چاہتے تھے کہ روس دولتِ اسلامیہ کے خلاف مزید کارروائی کرے۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ گذشتہ ہفتے اوول میں موجود اپنے دفتر میں امریکی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملے تھے۔

اس سے قبل امریکی میڈیا نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ یہ معلومات ایک ایسے اتحادی کی جانب سے آئی تھیں جس نے امریکہ کو انھیں روس تک پہنچانے کی اجازت نہیں دی تھی۔

منگل کو اپنی ٹوئٹ میں امریکی صدر نے لکھا کہ ‘بحیثیت صدر میں نے روس سے شیئر کرنا چاہا ( وائٹ ہاؤس میں طے پانے والی ملاقات میں) جسے کرنے کا مجھے مکمل حق حاصل ہے، دہشت گردی اور فضائی پروازوں کی حفاظت سے متعلق شواہد کے بارے میں۔’

اس کی وجہ انسانیت سے ہمدردی تھی، ساتھ ہی میں یہ چاہتا تھا روس دولتِ اسلامیہ اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مزید کام کرے۔’

ٹرمپ
صدر ٹرمپ پر ڈیموکریٹس بہت تنقید کر رہے ہیں اور ان کی اپنی ریپبلکن پارٹی بھی ان سے وضاحت کا مطالبہ کر رہی ہے

واشنگٹن پوسٹ کی خبر کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی خفیہ معلومات جو کہ دولتِ اسلامیہ کے منصوبوں سے متعلق تھیں کا مرکز ہوائی جہاز میں لیب ٹاپ کا استعمال تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا اقدام غیر قانونی نہیں، امریکی صدر کی حیثیت سے انھیں معلومات کو افشا کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

تاہم اس اقدام پر صدر ٹرمپ پر ڈیموکریٹس بہت تنقید کر رہے ہیں اور ان کی اپنی ریپبلکن پارٹی بھی ان سے وضاحت کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

انتہائی حساس معلومات

حکام نے واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ اوول آفس میں روسی سفیر کے ساتھ بات چیت کے دوران امریکی صدر نے کچھ ایسی معلومات کا تبادلہ کیا جن کے نتیجے میں ان کا ماخذ ظاہر ہو سکتا ہے۔

یہ گفتگو دولتِ اسلامیہ کے ایک منصوبے کے بارے میں ہو رہی تھی جس کے دوران امریکی صدر اپنے ‘مسودے سے ہٹ گئے۔’ اخباروں نے لکھا ہے کہ یہ خفیہ معلومات ایک امریکی اتحادی کی جانب سے آئی تھیں اور اس قدر حساس تھیں کہ انھیں دوسرے امریکی اتحادیوں کو نہیں بتایا جا سکتا تھا۔

وہاں موجود دوسرے لوگوں کو اس غلطی کا اندازہ ہو گیا اور انھوں نے اس کا ‘ازالہ’ کرنے کے لیے سی آئی اے اور نیشنل سکیورٹی ایجنسی کو مطلع کر دیا۔

ایچ آر میک ماسٹر
یہ خبر جیسے بیان ہوئی ہے، وہ غلط ہے: قومی سلامتی کے مشیر ایچ آر میک ماسٹر

یہ ملاقات اس کے ایک روز بعد ہوئی تھی جب صدر ٹرمپ نے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی کو برطرف کیا تھا۔ اس پر ایک تنازع اٹھ کھڑا ہوا تھا کہ اس برطرفی کی اصل وجہ یہ تھی کہ کومی امریکی صدر کے روس کے ساتھ تعلقات کی تفتیش کر رہے تھے۔

اس ملاقات کی ایک اور خاص بات یہ تھی کہ اس میں روسی فوٹوگرافر موجود تھے تاہم امریکی میڈیا کو اس کی رپورٹنگ کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

ابتدا میں وائٹ ہاؤس کا ردِعمل

قومی سلامتی کے مشیر ایچ آر میک ماسٹر نے وائٹ ہاؤس کے باہر نامہ نگاروں کو بتایا: ‘یہ خبر جیسے بیان ہوئی ہے، وہ غلط ہے۔ صدر اور (روسی) وزیرِ خارجہ نے دونوں ملکوں کو لاحق خطرات کا جائزہ لیا، جن میں شہری ہوا بازی کو درپیش خطرے شامل ہیں۔‘

‘اس دوران کسی بھی وقت خفیہ معلومات کے ذرائع یا طریقوں پر بات نہیں ہوئی، اور صدر نے ایسی کسی فوجی کارروائی کا ذکر نہیں کیا جو پہلے ہی سے لوگوں کو معلوم نہ ہو۔’

امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ کے روس کے ساتھ تعلقات کا معاملہ خاصا گرم ہے، اور اس بارے میں متعدد تحقیقات جاری ہیں۔

تاہم امریکی صدر ان الزامات کو ‘جعلی خبر’ کہہ کر مسترد کرتے آئے ہیں۔

’انتہائی تشویش ناک‘

سینیٹ میں دوسرے سب سے اعلیٰ عہدے دار ڈک ڈبرن نے کہا کہ ٹرمپ کا اقدامات ‘خطرناک اور اندھا دھند’ ہیں۔

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے ریپبلکن سربراہ باب کورکر نے کہا کہ اگر یہ خبر درست ہے تو ‘انتہائی تشویش ناک’ ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن نے بھی ایک بیان میں کہا کہ اس ملاقات میں ‘درپیش خطرات کی نوعیت پر بات ہوئی، نہ کہ ذرائع، طریقۂ کار یا فوجی آپریشن کے بارے میں۔’

تاہم واشنگٹن پوسٹ نے، جس نے سب سے پہلے یہ خبر دی تھی، کہا کہ اس سے ان کی خبر کی تردید نہیں ہوتی۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s