’ون بیلٹ ون روڈ‘ کی مخالفت بھارتی خارجہ پالیسی کیلئے تباہی قرار

591aac8b9a7f0.jpg

چینی صدر شی جن پنگ کی دعوت پر بیجنگ میں منعقدہ ’ون بیلٹ ون روڈ فورم‘ میں درجنوں ممالک کے سربراہان نے شرکت کی وہیں بھارت نے اجلاس میں اپنا سرکاری وفد بھیجنے سے انکار کیا۔

بھارت کا مؤقف تھا کہ پاکستان اور چین کے درمیان جاری ون بیلٹ ون روڈ کا فلیگ شپ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ بھارتی خود مختاری کی خلاف ورزی ہے لہذا اسے تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔

دوسری جانب نئی دہلی کے اس اقدام پر بھارت کے 3 اہم خبر رساں اداروں نے اپنے اداریئے حکومت کو ون بیلٹ ون روڈ فورم میں عدم شرکت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خارجہ پالیسی اور سفارت کاری کی ناکامی قرار دیا۔

تاہم کچھ نشریاتی اداروں کا مؤقف تھا کہ قیادت کے بیجنگ کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے پر تحفظات درست ہیں۔

انڈین ایکسپریس نے لکھا کہ ’بھارت کا سی پیک پر اعتراض درست ہے تاہم متنازع بات یہ ہے کہ ہم خود مختیاری کے اہم ترین سوال پر کسی عالمی طاقت کو ساتھ نہیں کرسکے‘۔

اداریئے میں مزید لکھا گیا کہ ’چین کی جانب سے منعقد کیا گیا ون بیلٹ ون روڈ فورم، جس میں جدید دور میں رابطے اور تعاون کے منصوبوں سے متعلق معلومات منظرعام پر لائی گئیں، میں بھارت کی عدم شرکت خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی ناکامی اور نئی دہلی کی تنہائی کو واضح کرتی ہے‘۔

انڈیں ایکسپریس نے لکھا کہ ‘ کانفرنس میں شرکت کرکے اپنی آواز اور مؤقف پیش کرنے کے بجائے اس کا بائیکاٹ کرکے بھارت نے یہ پیغام دیا کہ وہ ہر فورم پر آواز بلند کریں گا لیکن درحقیقت جو ہوا ہے اسے تسلیم کرلیا ہے‘۔

بھارت باہر نہیں بیٹھ سکتا: دی ہندو

دی ہندو نے اپنے اداریئے میں لکھا کہ ‘بھارت کے تحفظات درست ہیں اور گلگت بلتستان کے حوالے سے بھارتی اعتراض دور ہونے تک ون بیلٹ ون روڈ کا حصہ نہیں بننا سمجھ میں آتا ہے، تاہم بحیثیت مبصر بھی فورم میں شریک نہ ہونا سفارت کاری کے دروازے بند کرنے جیسا ہے، بالخصوص امریکا اور جاپان کے سامنے جو چین کے اس منصوبے کا حصہ نہیں لیکن پھر بھی انہوں نے فورم میں اپنے سرکاری وفد روانہ کیے‘۔

دی ہندو کے مطابق ’اپنے تحفظات چین تک پہنچانے اور ان کے حل کے لیے ضروری ہے کہ بھارت چین سے فعال انداز میں رابطہ کرے‘۔

بھارت نے اپنے مفاد کو متاثر کیا: ٹائمز آف انڈیا

ٹائمز آف انڈیا کے اداریئے میں خیال ظاہر کیا گیا کہ ’بیجنگ میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت نہ کرکے بھارت نے عام روش کے برخلاف ایک دلیرانہ خارجہ پالیسی کا اقدام لیا ہے‘۔

اداریہ کے مطابق ’اس فورم میں شرکت نئی دہلی اور وزارت خارجہ امور کے لیے چینی مذاکراتی تکنیک پر غور کے لیے بہتر ہوتی‘۔

بھارت کی اپنی وجوہات ہیں: ہندوستان ٹائمز

ہندوستان ٹائمز نے لکھا کہ ’چین کے اہم تریم تعمیراتی منصوبے پر بھارت واضح حریف بن کر سامنے آیا ہے، ون بیلٹ ون روڈ منصوبے پر بھارتی تحفظات شاید بظاہر غیر واضح ہوں مگر جغرافیائی سیاست کے حوالے سے دیکھیں تو یہ واضح طور پر دکھائی دیں گے۔

بیجنگ کی اس دلیل کو ماننا بہت مشکل ہے کہ ان کا چند کھرب ڈالرز کا منصوبہ دنیا کے لیے ایک تحفہ ہوگا۔

کسی بھی صورتحال میں بھارت نے کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ کسی دوسرے ملک میں چینی منصوبوں کو روکنے کی کوشش کرے گا، بھارت کا مؤقف یہ رہا ہے کہ وہ اس منصوبے کا حصہ نہیں بنے گا، بیجنگ کے لیے یہ سوال برقرار ہے کہ وہ کیوں اس بات پر اتنا زور دے رہا ہے کہ بھارت اس منصوبے کی تائید کرے جبکہ چین خود نیوکلیئر سپلائرز گروپ سمیت ہر فورم پر بھارت کی مخالفت کرتا رہا ہے‘۔

بزنس سٹینڈرڈ نے بھی بھارت کے اقدام پر ایسے ہی ردعمل کا اظہار کیا اور ون بیلٹ ون روڈ پر ملک کے تحفظات کو درست قرار دیا۔

بزنس سٹینڈرڈ کے اداریئے کے مطابق ’بھارت کو ون بیلٹ ون روڈ کے دیگر منصوبوں میں شرکت پر بھی احتیاط برتنی ہوگی‘۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s