گُوگل میپس کے ذریعے سرحدی تنازعہ حل کرنے کی کوشش

پاکستان اور افغانستان ’گوگل میپس‘ کے ذریعے پاک افغان سرحدی تنازعہ کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ دونوں ممالک کے مابین سرحدی کشیدگی کے باعث گزشتہ ہفتے کئی جانوں کا ضیاع ہوا تھا۔

Chaman Pakistanisch-afghanische Grenze geschlossen (picture alliance/ZUMAPRESS.com)

گزشتہ جمعے کو پاک افغان سرحد پر چمن کے قریب مسلح جھڑپ کے نتیجے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ پاکستان نے ان ہلاکتوں کا ذمہ دار پڑوسی ملک افغانستان کو ٹہرایا تھا۔ دوسری جانب پاکستانی افواج کی جانب سے اتوار کو جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ انہوں نے پانچ افغان سرحدی چوکیوں کو تباہ کر دیا ہے جس کے نتیجے میں افغان فورسز کے ’پچاس سے زیادہ‘ اہلکار ہلاک ہوئے۔

: Woke up to celebratory front page headlines today on all Pak papers saying Pak killed 50 Afg soldiers & injured 100 in Chaman clash.

پاکستان کے اس بیان کی تردید کرتے ہوئے پاکستان میں تعینات افغان سفیر عمر ذخیل وال نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا، ’’میں آج صبح پاکستانی اخباروں کی جشن مناتی سرخیوں کے ساتھ اٹھا جن کے مطابق پاکستانی فوج نے پچاس افغان فوجیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ خبریں پاکستانی فوج اور ایف سی کی جنوبی کمانڈ کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات پر مبنی تھیں۔ درحقیقت صرف دو افغان فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔‘‘ انہوں نے اپنی ٹوئیٹس میں مزید لکھا، ’’دو زندگیاں بھی بہت زیادہ ہیں اگر ہم دوستانہ ہمسائے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ چمن میں تنازعے سے پاکستان میں کئی ہلاکتیں ہوئیں اور کئی افراد زخمی ہوئے لیکن ہم نے جشن منانے کے بجائے پچھتاوے اور دکھ کا اظہار کیا تھا۔‘‘

 Chaman clash left casualties, deaths & injured, on Pak side too but we instead of celebrating called it unfortunate & regrettable.

 

پاکستان  اور افغانستان کی سرحد 2400 کلومیٹر طویل ہے تاہم بعض افغان شہری ڈیورنڈ لائن کو سرحد کو تسلیم نہیں کرتے۔ افغان نقشے میں ’ڈیورنڈ لائن‘ کو دیکھا جا سکتا ہے لیکن افغانستان میں کئی قوم پرست شہریوں کی رائے میں افغان سرحد کا اختتام دریائے سندھ پر جا کر ہوتا ہے۔

اے ایف پی کو پاکستان کے ایک سینئر سکیورٹی اہلکار نے اپنا نام نہ ظاہر کرتے ہوئے بتایا، ’’دونوں ممالک کے جیولوجیکل سروے ڈیپارٹمنٹ کے افسران سروے کریں گے اور ’گوگل میپس‘ کا استعمال بھی کریں گے۔ ‘‘واضح رہے کہ پاکستان کی جانب سے پاک افغان سرحد  پر باڑ لگانے کی کوششوں کو افغانستان کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہے۔  یہاں آباد پشتون آبادی اکثر بغیر کسی روک ٹھوک کے پاکستان اور افغانستان آنے جانے کے عادی ہیں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s