ڈان خبر کی تحقیقات: پرویز رشید نے بھی خاموشی توڑ دی

حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے سول ملٹری قیادت کے درمیان ہونے والے اجلاس سے متعلق ڈان اخبار میں شائع ہونے والی ایک خبر کی تحقیقات کے سلسلے میں طارق فاطمی اور تحسین راؤ کی معطلی کے بعد سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید نے بھی وزارت سے ہٹائے جانے کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کردیا۔

پرویز رشید گزشتہ سال اکتوبر میں شائع ہونے والی خبر کے بعد پہلا نشانہ بنے تھے، لیکن وہ وزارت سے ہٹائے جانے کے بعد سے تاحال خاموش تھے۔

تاہم وزیراعظم کے سابق مشیر خارجہ اور پرنسپل انفارمیشن افسر کی جانب سے ان کی معطلی پر تحفظات کے اظہار کے بعد پرویز رشید نے بھی خاموشی توڑ دی۔

وزیراعظم کے بااعتماد ترین ساتھی سمجھے جانے والے پرویز رشید نے بھی حکومت کی جانب سے انھیں ہٹائے جانے کے فیصلے کو مسترد کردیا۔

اسلام آباد میں ایک تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز رشید نے تاثر دیا کہ وہ خبر کو اشاعت سے روکنے کے حوالے سے کیے جانے والے سلوک سے خوش نہیں ہیں، ان کا کہنا تھا ‘خبر کو رکوانا وزیراطلاعات کی ذمہ داری نہیں ہے’۔

سابق وفاقی وزیر نے کہا، ‘اگر وزیر اطلاعات کی ذمہ داری خبر کو اشاعت سے روکنا ہے تو پھر جامعات کی سطح پر صحافت کے طلبا کو یہ پڑھانا چاہیے’۔

54f59af8dddf9

ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر ریاست وزیراطلاعات سے توقع رکھتی ہے کہ وہ خبروں کو اشاعت سے روکے تو اس کو جامعات میں ‘خبر کو کیسے روکا جائے’ کے عنوان سے کورس پڑھانا چاہیے’۔

تاہم وہ انکوائری رپورٹ کے حوالے سے بیان دینے سے گریز کرتے رہے اور کہا کہ جب رپورٹ جاری ہی نہیں ہوئی تو وہ اس پر بیان کیسے دے سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:طارق فاطمی کا الوداعی خط، تمام الزامات مسترد کردیئے
ان کا کہنا تھا کہ وہ آئین کے تحت وزارت اطلاعات سے الگ ہوئے تھے، انھوں نے کہا، ‘میں نے وہی کیا جو کچھ ایک جمہوری معاشرے میں کیا جاسکتا ہے’۔

سابق وزیر اطلاعات نے کہا کہ ‘ایک جمہوری معاشرے میں آپ ایک رپورٹر کو صورت حال سے آگاہ کر سکتے ہیں اور انھیں نقطہ نظر دیتے ہیں لیکن ان پر خبر سے دست بردار ہونے کے لیے زور نہیں دے سکتے، اسی طرح جب مجھے کہا گیا تو میں نے رپورٹر کو اپنا نقطہ نظر دے دیا’۔

خیال رہے کہ پرویز رشید سے قبل وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی طارق فاطمی بھی ڈان میں شائع ہونے والی خبر کے حوالے سے الزامات کو رد کرچکے ہیں۔

طارق فاطمی نے اپنے الوداعی خط میں کہا تھا کہ ‘میں حالیہ الزامات کو رد کرتا ہوں، اس طرح کے الزامات ایک ایسے آدمی کے لیے تکلیف دہ ہیں جس نے قریباً پانچ دہائیوں تک عزت اور وقار کے ساتھ پاکستان کی خدمت کی ہو’۔

تحسین راؤ جنھیں بھی حال ہی میں عہدے سے برطرف کیا گیا تھا، وہ بھی اپنے معطلی سے خوش نہیں تھے اور رواں ہفتے کے آغاز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ وہ کمیشن کی انکوائری کمیٹی کی سفارشات کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ انکوائری کمیشن کی رپورٹ کا انتظار کررہے ہیں اور ان کے وکیل کو رپورٹ کی کلاسیفائیڈ نقل حاصل کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

تحسین راؤ کا کہنا تھا کہ ‘کمیشن خبر لیک کرنے والے ذمہ داروں کا تعین کیے بغیر میرے خلاف کارروائی کیسے تجویز کرسکتی ہے؟’۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s