اردگان کا بھارت پر پاکستان سے مذاکرات کرنے پر زور

نئی دہلی: ترک صدر رجب طیب اردگان نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ بحال کرے۔

ڈان اخبار کے مطابق دو روزہ دورے پر بھارت پہنچنے والے ترک صدر طیب اردگان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت اور پاکستان رابطے قائم کریں اور مختلف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مذاکرات کو مستحکم کریں۔

ترک صدر نے پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کو نیک نیت دوست قرار دیتے ہوئے سراہا جن کے ساتھ انہوں نے مسئلہ کشمیر پر کئی بار تبادلہ خیال کیا ہے۔

بھارت پہنچنے کے بعد مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طیب اردگان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں کے لیے مایوس کن صورتحال ہے جبکہ اسے حل کرکے عالمی امن کو کافی حد تک فروغ دیا جاسکتا ہے۔

بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے طیب اردگان کے بیان کا ترجمہ شائع کرتے ہوئے لکھا کہ: ’اگر ہم گہرائی میں جائیں اور قریب سے دیکھیں تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ روزانہ کی بنیاد پر پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر ہورہے ہیں، لیکن یہ مسئلہ کشمیر ہمیں دکھی کردیتا ہے کیوں کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ معاملہ دونوں ملکوں کو بھی مایوس کرتا ہے اور اس پر قابو پاکر ہم عالمی امن کے قیام میں نمایاں کردار ادا کرسکتے ہیں‘۔

ترک صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ’ 70 برس سے جاری یہ تنازع آنے والی نسلوں کو بھی نقصان پہنچائے گا، سات دہائیوں سے کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوا اور مجھے یقین ہے کہ اسے حل کرکے دونوں ملکوں کو سکون حاصل ہوگا‘۔

انہوں نے کہا کہ تنازعات کو طول دینا اور اسے مستقبل میں بھی ساتھ لے کر چلنا آئندہ نسلوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی کیوں کہ انہیں اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔

طیب اردگان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں ہی ترکی کے دوست ہیں اور انہیں مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے جبکہ مختلف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ملاقائیں بھی ہونی چاہئیں۔

قبل ازیں بھارت روانگی سے قبل انقرہ میں بھی ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے جنوبی ایشیا میں روایتی حریف اور جوہری ہتھیاروں کے حامل ممالک پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کی میز پر آنے کیلئے زور دیا تھا۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ترکی کے صدر نے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ان خیالات کا اظہار دورہ بھارت سے قبل انقرہ میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کے تنازعے کو طول دینا آئندہ نسلوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔

اس موقع پر ترکی کے صدر نے کرد عسکریت پسند گروپوں اور کشمیریوں حریت پسندوں کے درمیان کسی بھی قسم مماثلت کو مکمل طور پر مسترد کیا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان 70 سالہ دیرینہ تنازعے کے حل سے ان کی عوام کو ریلیف ملے گا اور خطے میں امن قائم ہوگا۔

کیا ترکی نئی دہلی کو نیوکلئیر سپلائر گروپ میں داخل ہونے کی مخالفت کرے گا کے سوال پر رجب طیب اردگان نے کہا کہ ترکی ہمیشہ بھارت کے مذکورہ گروپ میں داخل ہونے کی حمایت کرتا رہا ہے اور اس بات کی بھی حمایت کرتا ہے کہ پاکستان کو بھی اسی طرح گروپ میں شمال کیا جائے۔

انڈین ٹوڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق ترکی کے صدر طیب اردگان دو روزہ دورے پر بھارت آئے ہیں جہاں وہ پیر کے روز ہندوستانی وزیراعظم نریندرا مودی سے ملاقات کریں گے۔

دونوں سربراہان مملکت مقامی اور بین الاقوامی معاملات اور دوطرفہ باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کریں گے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s