ایک کے بعد ایک وعدہ پورا کر رہا ہوں :صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں 100 دن مکمل ہونے کے حوالے سے ریاست پنسلوینیا میں ایک ریلی کا انعقاد کیا گیا جہاں ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی میڈیا کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پنسلواینیا میں منعقدہ اس ریلی میں صدر ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ ‘ایک کے بعد ایک اپنا وعدہ نبھاتے جا رہے ہیں۔’ اس دوران انھوں نے خود پر ہونے والی تنقید کو ‘پرانے صحافیوں کی غلط خبروں’ سے تعبیر کرتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں نامہ نگاروں کو دیے جانے والے عشائیے میں بھی شرکت نہیں کی اور وہ سنہ 1981 میں رونالڈ ریگن کے بعد اس سالانہ تقریب میں شامل نہ ہونے والے پہلے صدر ہیں۔ اس سے قبل 100 دنوں کی مناسبت سے مسٹر ٹرمپ کی ماحولیاتی تبدیلی کی پالیسی کے خلاف بڑی بڑی ریلیاں منعقد ہوئیں۔ ہیرس برگ میں منعقدہ ایک ریلی میں صدر نے کہا کہ اقتدار میں 100 دن کے دوران ان کی کامیابیوں کی کوریج پر میڈیا کو بری طرح فیل ہونے کا گریڈ دیا جانا چاہیے۔ انھوں نے اپنے پرجوش حامیوں سے کہا کہ وہ واشنگٹن سے 100 میل دور رہنے پر زیادہ خوش ہوں گے۔ انھوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت صحافیوں کو دیے جانے والے عشائیے پر ہالی وڈ کے اداکاروں کا ایک بڑا گروپ اور میڈیا خود کو دلاسہ دینے میں مصروف ہوں گے کیونکہ وہ بہت بورنگ ہوگا۔ ابھی تک سابق صدر رونالڈ ریگن ہی آخری صدر تھے جو اس عشائیے میں شامل نہیں ہوئے تھے کیونکہ سنہ 1981 میں انھیں گولی لگنے کے بعد ان کا علاج کیا جا رہا تھا۔ اپنے انتخابی وعدوں کا ذکر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ پہلے سو دن بہت دلچسپ اور بار آور رہے۔ اس موقع پر ایک بار ان کا کہنا تھا کہ ’سابق امریکی صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے سب کچھ الٹا پلٹا کر رکھا ہے۔ ہم آنے والی بڑی جنگ کے لیے تیار ہیں اور ہمیں ہر معاملے میں کامیابی ملے گی۔‘ ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں انھوں نے کہا کہ آنے والے دو ہفتوں میں ایک بڑا فیصلہ لیا جائے گا۔ اس سے قبل انھوں نے ماحولیاتی تبدیلی کو افواہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ امریکہ کو پیرس معاہدے سے الگ کر دیں گے۔ ان کے خطاب سے قبل ہزاروں افراد نے پورے امریکہ میں ماحولیاتی تبدیلی پر ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مظاہروں میں شرکت کی۔ پیپلز کلائمیٹ مارچ کو مسٹر ٹرمپ کی صدارت کے 100 دن مکمل ہونے کے حوالے سے رکھا گيا تھا۔ واشنگٹن میں مظاہرین نے وائٹ ہاؤس تک مارچ کیا اور منتظمین نے کہا کہ وہ آب و ہوا کی بحث کو آئندہ سال ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے لیے مضبوطی کے ساتھ ایجنڈے پر رکھنا چاہتے ہیں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s